پاکستان کی دیہی خواتین زراعت کے شعبے میں بھر پور محنت کرتی ہیں مگر اِن کی اِس محنت کو نہ ہونے کے برابر سراہا جاتا ہے۔پانی تک رسائی، تربیت اور معاونت کی کمی اِن کی ترقی میں حائل روکاوٹیں ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 30 فیصد خواتین کو خاندانی مخالفت،24فیصد کو سفری سہولیات کی کمی اور 13فیصد کو کاروباری مہارتوں میں کمی کا سامنا ہے۔جبکہ بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے زرعی تربیت اور مشاورت لے کر زراعت کو بطور پیشہ اپنا چکی ہیں۔ہم زراعت میں خواتین کی شمولیت کو مضبوط بنا کر نہ صرف انہیں با اختیار بنا سکتے ہیں بلکہ ملک کی زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
